مؤ۔اُترپردیش 4/نومبر (ایس او نیوز/راست) موجودہ ملکی و عالمی حالات کے تناظر میں علمائے کرام کو اپنے غیر معمولی منصب اورفرائض کا ادراک کرتے ہوئے انسانیت کی درست رہنمائی کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے مشرقی یوپی کے تاریخی ادارہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم مؤ میں طلباء ،علماء و دانشوران کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں علمائے دین پر خصوصی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں،کیونکہ ان کے پاس اسلامی تعلیمات کا ذخیرہ ہے، وہ قرآن وحدیث کو سمجھتے ہیں اور اسلامی تعلیمات ونظام کے تعلق سے اکابر علماء و مفکرین کی کتابیں انہوں نے پڑھی ہیں ، چنانچہ اس سلسلے میں علمائے دین ہی اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔انہوں نے موجودہ وقت میں علماء کی ذمہ داریوں کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چا پہلی فرصت میں مسلمانوں کے درمیان معاشرتی بیداری کاماحول پیدا کرکے انہیں معاشرتی زندگی کے بارے میں اسلامی اصول سے آگاہ کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ علماء کو اس لائق بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے مدارس میں مضبوط تعلیم کے ساتھ تربیتی نظام نہایت ٹھوس اور سننِ نبویﷺواکابر امت کی زندگیوں کی روشنی میں مرتب کیا جائے،طلباء و فضلاء کی ایسی تربیت کی جائے کہ ان کے اندر اعلیٰ اخلاق ،عاجزی و انکساری،قربانی دینے کا جذبہ اور سخت حالات میں کام کرنے کے اوصاف پیدا ہوں اوروہ عملی میدان میں آنے کے بعد کسی قسم کے احساس کمتری کاشکار ہونے کے بجائے اپنی اہمیت و ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے امت کی درست علمی و عملی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔اس موقع پردارالعلوم مؤ کے مہتمم مفتی انور علی قاسمی نے مولانااسرارالحق قاسمی کا شکریہ اداکرتے ہوئے ان کی مختلف تعلیمی و رفاہی خدمات خاص طورسے کشن گنج میں اے ایم یوسینٹر کے قیام میں اجتماعیت کے ساتھ ان کی محنتوں اور بہار کے حالیہ قیامت خیز سیلاب کے دوران ان کے ذریعہ سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے کی گئی کوششوں کو سراہااور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ان کی شخصیت کو قیمتی قراردیا۔واضح رہے کہ مولانا قاسمی نے علاقے کے اپنے تین روزہ دورے کے دوران امام گنج مؤ میں مولانا ارشاد الحق مدنی کے زیر نگرانی چلنے والے ادارہ جامعہ زینب للبنات اور ایک اسکول کاسنگ بنیاد رکھاجبکہ مؤ کے ایک دوسرے مشہور تعلیمی ادارہ مفتاح العلوم میں بھی طلباء، علماء و دانشوران کی مجلس سے خطاب کیا۔